Monday, July 23, 2012

فضائل معاویہ اور طائفہ علماء اہلسنت


ہم اس مختصر تحریر میں اہلسنت کے خال المومنین جناب معاویہ بن ھند کے فضائل خصوصہ میں وارد روایات کے حوالہ سے طائفہ علمائے سلف و خلف کے اقوال کو پیش کیا جائے- آج کل ایک مذموم کوشش کے تحت دنیائے وھابیت میں بالعموم اور پاکستان میں دہشتگردوں میں تو یہ نعرہ بڑا عام ہیں کہ

سیاست معاویہ زندہ باد

اس نعرے پر تبصرہ کسی اور دن کا رہا- لیکن آج سردست ہم اس مذموم کوشش کو طشت از بام کرکے ابطال کرنا چاہتے ہیں جس میں مجالس، محافل، مذاکرات، بیانات، دروس وغیرہ میں خصوصی نشست کو معاویہ بن ھند کے لئے مخصوص کرے ان کے مزعوم فضائل مخصوصہ کی تشہیر کی جاتی ہیں

اس سلسلسے میں ہم نے ایک اشارہ دو سال پہلے اپنے ایک تھریڈ میں کیا تھا جس میں ابن تیمیہ کے قول سے استشہاد کیا اور ہمارے برادر عزیز حسن مولائی نے بخاری کے استاد اسحاق بن راہویہ کے قول سے احتجاج کیا

ایک شخص ھوٹ آئس نے ہماری تحریر کا جواب دینا چاہا اور ساتھ نصائح بھی کرنا چاہی- ان کی اس تحریر اور نصحیت کو بندہ احقر بڑی عزت سے نگاہ دیکھتا ہیں لیکن چونکہ ھوت آئس صاحب کی تحریر افراط و تفریط کا حسین مرقع ہیں لہذا اس پر اپنی رائے کا اظہار ہم ضمنی طور پر کرتے چلیں گے جب موقع و محل آئے گا انشاء اللہ

اس تحریر میں بعض اہلسنت کے علماء کے اقوال ذیشان کو پیش کرتے ہیں جس میں انہوں نے فضائل خصائص معاویہ کی نفی کی ہیں- ہم قارئین پر فیصلہ چھوڑیں گے کہ اگر ان کے اندر انصاف کی رمق باقی ہو تو وہ ضرور بالضرور معاویہ بن ھند کے بارے میں اپنی رائے میں تبدیلی لائیں گے بشرط یہ کہ وہ منصف ہو

ایک تنبیہ جو ادھر ضروری ہیں، وہ یہ کہ ادھر معاویہ کے ان عمومی مزعوم فضائل پر ہمارا تبصرہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ ہماری بحث کے دائرے سے فی الحال باہر ہیں- لہذاء وہ معاویہ بن ھند کے چاہنے والے جو معاویہ بن ھند کے عمومی فضائل ذکر کرکے ابطال کرنا چاہیں وہ زحمت نہ کرے-
۱،اسحاق بن راہویہ

جس راوی کی جہالت کا حکم معترض نے لگایا تھا حسن مولائی آغا کی پوسٹ کو دیکھ کر تو وہ اپنی جگہ مجھے مناسب دیکھائی دیتا ہیں- مجھے راوی کا تذکر تاریخ بغداد وغیرہ میں ملا مگر توثیق واضح نہیں- البتہ یہ بطور جزم ان علماء اہلسنت نے بطور استشہاد نقل کیا ہیں، جو الزام ہم پر لگایا جاتا ہیں وہی اعتراض ان علماء اہلسنت و سلفی پر ہوتا ہیں:

الف، ملا علی قاری
حوالہ: الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة المعروف بالموضوعات الكبرى ج 1 ص 477 المحقق: محمد الصباغ الناشر: دار الأمانة / مؤسسة الرسالة - بيروت

ب، علامہ بدر الدین عینی الحنفی
حوالہ: عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج 14 ص 249 الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت

ج، علامہ ابن قیم
حوالہ: المنار المنيف في الصحيح والضعيف ج ۱ ص 116 المحقق: عبد الفتاح أبو غدة الناشر: مكتبة المطبوعات الإسلامية، حلب

د، علامہ وحید الزمان حیدرآبادی
حوالہ: تیسیر الباری شرح صحیح بخاری، جلد 5، صفحہ 90، ناشر تاج کمپنی لمیڈڈ، باب ذکر معاویہ

ز، علامہ مبارکپوی
حوالہ: تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي ج ۱۰ ص 231 الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت

ہ، علامہ ابن حجر عسقلانی
حوالہ: فتح الباری، جلد 7، صفحہ 104، الناشر: دار المعرفة - بيروت، 1379

اعتراض: آپ نے بھی تک صحت روایت ثابت نہیں کی

جواب: اصل میں،ہم علماء سلف کے طریق پر گامزن ہوں- ایک قاعدہ مشہورہ کو نووی یوں ذکر کرتے ہیں

وَذَلِكَ أَنَّ صِيغَةَ الْجَزْمِ تَقْتَضِي صِحَّتَهُ عَنْ الْمُضَافِ إلَيْهِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُطْلَقَ إلَّا فِيمَا صَحَّ وَإِلَّا فَيَكُونُ الْإِنْسَانُ فِي مَعْنَى الْكَاذِبِ عَلَيْهِ


صیغہ جزم سے چیز کو نقل کرنا اس بات کی متقاضی ہیں کہ مضاف الیہ یعنی جس کی طرف نسبت ہو، اس سے صحت کا اثبات ہو- پس اس کا اطلاق اس وقت تک جائز نہیں جب کہ اس شخص سے صحت روایت ثابت نہ ہوجائے، اگر صحت روایت ثابت نہ ہو اور پھر بھی صیغہ جزم کا استعمال ہو تو یہ انسان کا اس شخص پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہیں
-

حوالہ:المجموع شرح المهذب، جلد 1، صفحہ 63، طبع دار الفکر

ہوٹ آئس یقینا برادر عزیز حسن مولائی کو اس معاملہ میں آپ کے علماء سے حسن ظن ہیں ورنہ پھر سب کو جھوٹا کہنا پڑے گا- یہ بات کم سے کم ہمیں برداشت نہیں


اس قاعدہ جلیلہ کو محدثین اثر میں سے علامہ البانی نے بھی نقل کیا ہیں

حوالہ: دفاع عن الحديث النبوي والسيرة، ص 47
۲، طاہر فتنی

اپنی کتاب میں مولف رقم طراز ہیں:

قَالَ لَا يَصح مَرْفُوعا فِي فضل مُعَاوِيَة شَيْء


فضائل معاویہ میں کوئی حدیث مرفوعا یعنی رسول اللہ ص سے صحیح ثابت نہیں

حوالہ: تذكرة الموضوعات ج ۱ ص 100 الناشر: إدارة الطباعة المنيرية

۳، علامہ بدر الدین عینی الحنفی

موصوف رقم طراز ہیں:

فَإِن قلت: قد ورد فِي فضيلته أَحَادِيث كَثِيرَة. قلت: نعم، وَلَكِن لَيْسَ فِيهَا حَدِيث يَصح من طَرِيق الْإِسْنَاد


اگر آپ کہیں کہ معاویہ کی فضیلت میں کثیر احادیث وارد ہوئی ہیں، میں کہوں گا کہ جی بالکل نقل ہوئی ہیں لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں


حوالہ: عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج 14 ص 249 الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت

۴، بخاری

اگرچہ اس پر مناقشہ کیا جاسکتا ہیں- چونکہ علماء اہلسنت و سلفی اس بات پر مختلف آراء رکھتے ہیں، ہم دونوں کی آراء سے واقف ہیں اور زبردستی اپنی رائے مسلط کرنا صواب نہیں سمجھتے- لہذاء ان کی کنایتہ ذکر باب کو علامہ عینی کے قول سے مطابقت دینے کی کوشش کرتے ہیں- یہ ایک واشگاف حقیقت ہیں کہ علامہ بخاری نے اپنی صحیح میں باب ذکر معاویتہ قرار دیا بنسبت باب فضیلتہ معاویہ جیسے کہ اکثر اصحاب نبوی ص کے طریقہ کار کو انتخاب کیا گیا- اس ذکر والے لفظ نے علامہ عینی کو اس بات پر کہنے پر مجبور کیا:

إِن فِيهِ ذكر مُعَاوِيَة، وَلَا يدل هَذَا على فضيلته

اس باب میں معاویہ کا ذکر ہے جو فضیلت پر دال نہیں

حوالہ: عمدة القاري شرح صحيح البخاري ج 14 ص 249 الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت

 

معاویہ کی بدعتیں

تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ معاویہ کی بدعتیں متعدد ہیں : ہم ان میں سے چند کی طرف اشارہ کئے دیتے ہیں:
۱۔ عید اور بقرعید کی نماز میں اذان کہنے کی بدعت معاویہ نے شروع کی
”شافعی“ نے اپنی کتاب ”الام“(۱) میں زہری کی سند سے نقل کیا ہے : پیغمبر اسلام (ص)، ابوبکر، عمر اور عثمان کے زمانے میں عید کی نماز میں اذان نہیں کہی گئی، ان کے بعد شام میں معاویہ نے اس بدعت کو رائج کیا اور اس کے بعدجب ”حجاج“ مدینہ کا گورنر بنا تو مدینہ میں اس نے یہ بدعت رائج کی۔
”ابن حزم“ اپنی کتاب ”المحلی“(۲)میںلکھتا ہے : بنی امیہ نے جو بدعتیں رائج کیں ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :
الف ۔ نماز عید کیلئے دیر سے جانا ۔
ب ۔ نماز عید سے پہلے خطبہ پڑھنا۔
ج ۔ عید کی نماز میں اذان و اقامت کہنا۔
۲۔ دیت کے مسئلہ میں معاویہ کی بدعت
”ضحاک“ اپنی کتاب ”الدیات“ (۳)میں محمد بن اسحاق سے نقل کرتا ہے : میں نے زہری سے کہا : مجھے کافر ذمی کی دیت کے بارے میں بتاوٴ کہ پیغمبر اکرم(ص)کے زمانے میں اس کی مقدار کتنی تھی؟ کیونکہ اس کے بارے میں اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ اس نے کہا : مشرق و مغرب میں اس مسئلہ کے بارے میں مجھے سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) ، ابوبکر، عمر اور عثمان کے زمانے میں دیت کی مقدار ایک ہزار دینار تھی یہاں تک کہ معاویہ نے مقتول کے اولیاء کو پانچ سو دینار اور بیت المال کے لئے پانچ سو دینار کو معین کیا۔
ابن کثیر ”البدایة والنھایة“(۴)میں لکھتا ہے :
زہری کہتا ہے : شروع سے سنت یہ تھی کہ کافر ذمی کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر تھی اور معاویہ پہلا وہ شخص ہے جس نے اس کو آدھی کردی اور آدھی دیت کو اپنے سے مخصوص کرلی(۵)۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے : کافر ذمی کی دیت جیسا کہ زہری نے بیان کیا ہے پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں ایک ہزار دینار نہیں تھی اور ابوحنیفہ کے علاوہ ان کے آئمہ مذاہب میں سے کسی ایک نے بھی ایک ہزار دینا بیان نہیں کیا ہے ۔ اور سب سے پہلے جس شخص نے اس کو ایک ہزار دینا کیا وہ عثمان تھا(۶)بہر حال اس کام میں معاویہ نے تین بدعتیں ایجاد کیں:
الف۔ اس نے دیت کو ایک ہزار دینار قرار دیا
ب۔ دیت کو مقتول کے ورثاء اور بیت المال کے درمیان تقسیم کیا۔
ج۔ دیت میں سے آدھا حصہ بیت المال کا قرار دیا اس چیز کو فرض کرتے ہوئے کہ ایک ہزار دینار سنت تھی اور بیت المال کا اس میں حصہ تھا۔
۳۔نماز میں مستحبی تکبیروں کو ختم کرنا
کتاب ”شرح الموطا“ میں اس طرح بیان ہوا ہے : ”طبری“ نے ”ابوہریرہ“ سے نقل کیا: سب سے پہلے جس نے نماز سے مستحبی تکبیروں کو ختم کیا ہے وہ معاویہ تھا۔ اور ”ابوعبید“ کی روایت کے مطابق : سب سے پہلا شخص زیاد تھا ۔
”ابن حجر“ نے اپنی کتاب فتح الباری میں (۷) لکھا ہے:
ان دونوں روایتوں میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ ”زیاد“ نے معاویہ کی پیروی میں تکبیروں کو نہیں کہا ہے اور معاویہ نے عثمان کی پیروی میں تکبیروں کو چھوڑا ہے(۸)۔ لیکن علماء کے ایک گروہ نے اس کو آہستہ کہنے پر حمل کیا ہے۔
اور کتاب ”الوسائل الی مسامرة الاوائل“(۹)میں آیا ہے:
سب سے پہلے جس نے تکبیروں کوترک کیا وہ معاویہ ہے وہ ”سمع اللہ لمن حمدہ“ کہنے کے بعد بغیر تکبیر کہے سجدہ میں چلا جاتا تھا۔
شافعی اپنی کتاب ”الام“(۱۰)میں ”عبید بن رفاعہ“ سے نقل کرتا ہے : معاویہ نے جب مدینہ میں آکر نماز پڑھی تو نماز میں بسم اللہ نہیں پڑھی اور نماز کی حرکات وسکنات میں تکبیروں کو نہیں کہا ۔ نماز کے بعد مہاجر و انصار نے فریاد بلند کی : یا معاویہ !سرقت صلاتک، این بسم اللہ الرحمن الرحیم؟ و این التکبیر اذا خفضت و اذا رفعت؟! ائے معاویہ تم نے نماز سے چوری کی ، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہاں گئی؟ نماز میں اٹھتے بیٹھتے وقت کی تکبیریں کہاں گئیں؟!۔ اس نے دوبارہ نماز پڑھائی اور جن چیزوں کا اس پر اعتراض کیا گیا تھا اس کو دوبارہ پڑھا۔
۴۔ نماز عید میں خطبوں کو پہلے پڑھنے کی بدعت
”عبدالرزاق“، ”ابن جریج“ اور زہری“ سے نقل کرتا ہے (۱۱): جس شخص نے سب سے پہلے عید کی نماز میں نماز سے پہلے خطبہ پڑھا وہ معاویہ تھا۔ اور ابن منذر نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے : سب سے پہلا شخص جس نے بصرہ میں اس بدعت کو رائج کیا وہ ”زیاد“ تھا۔ ”عیاض“ کہتا ہے : ان دونوں بیانات اور اس بیان میں جس میں مروان کا نام آیا ہے کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ مروان اور زیاد ،معاویہ کے ․․․․․․․کارندوں میں تھے ۔ لہذااس کام کو پہلے معاویہ نے شروع کیا اور انہوں نے اس کی پیروی کی(۱۲)۔
1 ـ کتاب الاُمّ 1 : 208 ]1/235[ .
2 ـ المحلّى : 5 : 82 .
3 ـ الدیات : 50 .
4 ـ البدایة والنهایة 8 : 139 [8/148 ، حوادث سال 60 هـ [ .
5 ـ [قسمت داخل کروشه از منبع اصلى آورده شده است[ .
6 ـ مراجعه شود: الاُمّ ، شافعى 7 : 293 [7 / 321 ;ر . ک : الغدیر 8/240 ـ 248[ .
7 ـ فتح الباری 2 : 215 .
8 ـ احمد در مسند [5/597 ، ح 19380] از عمران این روایت را نقل مى کند.
9 ـ الوسائل إلى مسامرة الأوائل : 15 .
10 ـ کتاب الاُمّ 1 : 94 [1/108[ .
11 ـ المصنّف [3 / 284 ، ح 5646[ .
12 ـ شفیعی شاہرودی، الغدیر سے منتخب اشعار، ص 982 و 986 و 987 و 992

Sunday, April 22, 2012

معاویہ غیر اسلام پر مرا ہے یعنی کافر مرا ہے

کتاب مسائل امام احمد بن حنبل ج ص 154میں ہے
" ابن جعد سے امام احمد روایت کرتے ہیں کہ ابن جعد نے کہا اللہ کی قسم معاویہ کافر ہو کر مرا ہے "
اس کتاب کا محقق بجائے اس کے اسکی سند بحث کرتا کہنے لگا کہ جس نے بھی یہ بات کہی ہے اس نے اپنے اسلام کو خطر میں ڈالا ہے
یہ تو کوئی جواب نہیں ہوا
اس کتاب کا محقق بجائے اس کے اسکی سند بحث کرتا کہنے لگا کہ جس نے بھی یہ بات کہی ہے اس نے اپنے اسلام کو خطر میں ڈالا ہے
یہ تو کوئی جواب نہیں ہوا


معاویہ کی بت فروشی

جہاں ہند جگر خوار کے لال کے کئی رزائل ہیں وہاں اس میں ایک بت کی تجارت بھی ہے جو ہندوستان کے لئے ایکسپورٹ کرتا تھا
طبری نے اپنی کتاب تھذیب میں لکھا ہے :
ابو وائل کہتا ہے کہ : میں مسروق کے ساتھ تھا ایک کشتی گزری جس میں سونے چاندی سے بنے بت تھے جسے معاویہ، تجارت کے لئے ہندوستان بھیج رہا تھا تب مسروق نے کہا :اگر مجھے یقین ہوتا کہ یہ مجھے قتل کر دینگے تو میں یہ پوری کشتی کو غرق کر دیتا لیکن میں آزمائش اور تشدد سے ڈرتا ہوں ۔
متن

حدثنا محمد بن بشار ، قال : حدثنا عبد الرحمن ، قال : حدثنا سفيان ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، قال : كنت مع مسروق بالسلسلة ، فمرت عليه سفينة فيها أصنام ذهب وفضة ، بعث بها معاوية إلى الهند تباع ، فقال مسروق : « لو أعلم أنهم يقتلوني لغرقتها ، ولكني أخشى الفتنة »
تهذيب الآثار وتفصيل الثابت عن رسول الله من الأخبار ج 3 ص 241 أبي جعفر محمد بن جرير بن يزيد الطبري
سنة الولادة 224هـ/ سنة الوفاة 310هـ تحقيق محمود محمد شاكر الناشر مطبعة المدني سنة النشر مكان النشر القاهرة
انساب الاشراف بلاذری ج 2 ص 122میں اس طرح ہے
حدثنا يوسف وإسحاق قالا: جرير عن الأعمش عن أبي وائل قال: كنت مع مسروق بالسلسلة فمرت به سفائن فيها أصنام من صفرٍ تماثيل الرجال، فسألهم عنها فقالوا: بعث بها معاوية إلى أرض السند والهند تباع له، فقال مسروق: لو أعلم أنهم يقتلونني لغرقتها، ولكني أخاف أن يعذبوني ثم يفتنوني، والله ما أدري أي الرجلين معاوية، أرجل قد يئس من الآخرة فهو يتمتع من الدنيا أم رجل
زين له سوء عمله


اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے 
عبد الرحمن سے مراد عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ یہ اور سفیان ، محمد بن بشار 
بخاری کے مشائخ ہیں 
بخاری کبھی عبد الرحمن کو ابن المھدی کہتا ہے


نیچےصحیح بخاری سے ایک روایت درج کر رہا ہوں جس میں ہماری روایت کے سب چہار افراد ہیں


37 - باب: ليس منا من ضرب الخدود .



حدثنا محمد بن بشار: حدثنا عبد الرحمن: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله رضي الله عنه،

عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية).

Saturday, April 21, 2012

Who was Muawiya ibn Abu Sufyan?

 The story of Ashura and the great sacrifice made by Imam Hussain (a.s.) to save the religion of Islam was a classic tale of good versus evil. The evil in these events was personified by Yazid ibn Muawiya (may Allah curse him), a man who was simply a despicable human, let alone a so-called Muslim.

His reign as "caliph" was short but painful. In his first year of rule he commanded his forces to kill the grandson of the Holy Prophet, along with his family and friends and in the second year he attacked the Holy Kaa'ba and set fire to it. He was a power-hungry, selfish and arrogant man but tracing through history, he was not the real brains behind the attempt to destroy Islam, the real brains was his father - Muawiya ibn Abu Sufyan. Of the trio of the founding Umayyad fathers, Abu Sufyan, Muawiya and Yazid, Muawiya is the most significant, the most influential and most cunning.

Sunnis lay a lot of credit on Muawiya's door. They have a lot invested in him. They don't really take note of Abu Sufyan and condemn the actions of Yazid, on the whole (apart from fools like Dr. Zakir Naik). Muawiya on the other hand is treated with a lot of respect. They call him Hazrat Muawiya - rasiallahu-anhu (may Allah be pleased with him) amongst other respectful titles. He has been bizarrely sanctified by the Ahle Sunnah over the centuries, his reputation has been shrouded in myths, legends and propaganda.

During Muharrum I heard an excellent lecture about Muawiya. From my notes and further research on the man, I want to explore who Muawiya was, we need to be aware of who he was and what he represented. The lecturer carefully explored his real record, the truth about his life and deeds and ambitions. We have to know who these people are in order to represent our faith in a better light and even enlighten our brethren in the Ahle Sunnah about the truth behind Muawiya.

The Ahle Sunnah like to give him three main claims to fame. Firstly, he was a great companion of the Holy Prophet. Looking at history, he was in the Holy Prophet's midst only for the last 2 years of the Prophet's life. Any hadith claiming words of praise about Muawiya from the Holy Prophet have been fabricated by Muawiya himself. He was a great propaganda machine and spent much of his time in power creating new hadiths about himself and Bani Ummaya. He also created other hadiths trying to discredit Imam Ali (a.s.) and Bani Hashim in an attempt to legitimise his rule.

The reality is that he was not a great companion of the Holy Prophet, and the Prophet enunciated not one word of praise or merit about Muawiya. Many Sunni scholars have come to this conclusion in their research, including Ibn Hajar al-Asqalani, Jalaluddin Al-Suyuti and Abdul-Haqq Dehlavi who all attest to there being no hadiths in praise of Muawiya in their books.

The Ahle-Sunnah also believe Muawiya to have been a legitimate ruler, caliph of the Muslims. He obtained the Caliphate by ousting the 2nd Holy Imam, Imam Hasan (a.s.) through bribery and blackmail of Imam Hasan's supporters. He negotiated a peace treaty with Imam Hasan (a.s.) and then systematically broke every single article of the treaty. He broke the central condition of the treaty - regarding succession to his rule, by appointing his cursed son Yazid as Caliph.

He is, in effect, Islam's first tyrant. He was the man who created structures of kinship and autocracy. He dug the roots of tyranny, terror and totalitarianism that defaces Islam today. Famous Sunni scholar, Abul Ala Maududi, in his 1973 book "Caliphate and Kingship", outlines in detail the numerous ways in which Muawiya enriched himself at the expense of the people, how corrupt he was, how many companions and innocent Muslims he killed and how he amassed both power and wealth. He turned the Caliphate into a Kingship. (After all that criticism, Maududi still managed to end the book with "Hazrat Muawiya, (r.a.)"!!)

If he is a true Caliph and deserved the title, why is he not one of the Khulafa-e-Rashideen - the four rightly guided Caliphs? Why does it end with Imam Ali (a.s.), why wasn't Muawiya added to this list? They know the truth, but cannot bring themselves to admit as much. The irony is that how could he be a great Caliph when some of his own companions refused to pray behind him? A companion of Abu Huraira, no friend of the Shia, claims in Sirat-e-Halabiya that "On the plains of Siffin, Abu Huraira would pray Salat behind Ali, but would go and eat with Muawiya. Someone asked why he did this, to which he replied "Food with Muawiya is better, but Salat under Ali is better.""